ابنا: ایک ایسے وقت جب پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر میموگیٹ ، این آر او پر عمل درامد کے سلسلے میں سپریم کورٹ کے حکم اور آئندہ ستمبر سے اکتوبرتک کےدرمیان عام انتخابات کا موضوع چھایا ہوا ہے ، پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف نے رواں ماہ جنوری کے آخرتک اپنی واپسی کا اعلان کرکے سیاسی حلقوں کو ایک اور موضوع دے دیا ہے ۔
اس بات سے قطع نظر کہ وہ پاکستان اپنے اعلان کردہ وقت پر آسکیں گے یا نہيں ، جو بات سب کے ذہنوں میں سوال بن کر ابھر رہی ہے کہ اگر وہ پاکستان آتے ہیں تو انہيں آئین توڑنے اور سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے قتل ميں ملوث ہونے جیسے دیگر الزامات کے تحت گرفتارکیا جاسکے گا یا نہيں ؟ اگر چہ پاکستان کے وزیر داخلہ رحمن ملک نے کہا ہے کہ پرویز مشرف اشتہاری ہيں انہيں ملک ميں آتے ہی گرفتار کرلیا جائے گا لیکن جس طرح سے امریکی حکام سے ان کے رابطے ہیں اور اسرائیل کی جم کر انہوں نے تعریف کی ہے اور اس کے بعد سب سے آخری مرحلے میں جس انداز سے وہ اپنی سیکورٹی کی ضمانت لینے کے لئے سعودی عرب کے بادشاہ کا آشیر باد لینے ریاض جانےوالے ہیں اس کو دیکھتے ہوئے ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ پرویزمشرف پاکستان سے واپسی سے قبل اپنی سیکورٹی کی پوری یقین دہانی چاہتے ہیں ۔
دریں اثنا جو بات سب سے زیادہ قابل غور ہے وہ یہ کہ امریکی سفیر سے پرویزمشرف کے دوستوں کی باربار ملاقات ، صہیونی ریاست کی جم کر تعریف کرنا اور پھر سعودی عرب کا ان کا مجوزہ دورہ یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ ان تینوں ہی ریاستوں کی حمایت حاصل کرکے پاکستان لوٹنا چاہتے ہیں ۔
پرویزمشرف نے صہیونی اخبار ہاآرتض کو اپنے ایک خصوصی انٹرویوں میں غاصب اورانسان دشمن صہیونی ریاست کو ایک حقیقت قراردیتے ہوئے صبرا و شتیلاکے جلاد اور قبلہ اول کے تقدس کو پائمال کرنےوالے صہیونی ریاست کے نیم مردہ سابق وزیر اعظم اریل شیرون کو اپنا آئيڈیل قراردے کر جہاں فلسطینی قوم کے ساتھ ساتھ پوری امت مسلمہ کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی وہيں یہ کہہ کر کہ پاکستان کی ہی طرح اسرائیل بھی ایک نظریاتی ریاست ہے پوری پاکستانی قوم کی اہانت کی ہے ۔ کیونکہ پاکستان ایک آزاد و خود مختار ملک ہے جس کو پوری دنیا عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے جب کہ اسرائیل ایک غاصب ریاست ہے جس کو دنیا کی بیشتر اقوام سرے سے تسلیم ہی نہيں کرتیں ۔
صرف امت مسلمہ ہی نہيں بلکہ دنیا کی دیگر اقوام بھی اس غاصب ریاست کو انسان دشمن اور نسل پرست حکومت سمجھتی ہیں اور یہ وہ حقیقت ہے جس کا اظہار ابھی چند برس قبل ہی جنوبی افریقہ کے شہر ڈربن میں نسل پرستی کے خلاف ہونےوالے عالمی اجلاس میں دنیا بھر سے آئے ہوئے مختلف اقوام کے مندوبین نے کیا تھا ۔ بنابریں پاکستان میں مبصرین اور عوام کا کہنا ہے کہ مشرف نے غاصب اسرائیلی حکومت کو پاکستان سے تشبیہ دے کر پاکستان اور پاکستانی قوم کی اہانت کی ہے ۔
سوال یہ پیداہوتا ہے کہ کیا سعودی عرب بھی جو ظاہری طور پر خود کو اسلام کا ٹھیکہ دار قراردینے کی کوششوں ميں سرگرم رہتا ہے پاکستان کو اسرائیل کی ہی طرح کی ایک ریاست سمجھتا ہے ؟ اگر ایسا نہيں ہے تو اسے پرویزمشرف کو اپنے یہاں سیاسی دورے پر آنے سے روک کیوں نہیں دیتا ؟ لیکن ایسا نہيں ہوگا اس کی وجہ یہ ہے کہ گذشتہ کئي برسوں سے سعودی عرب کی حکومت علاقے میں اسرائیلی مفادات کے محافظ کے طور پر کھل کر کام کررہی ہے ۔ علاقے ميں رونما ہونےوالے حقائق اور ان میں سعودی عرب کے کردار پر جب نظر ڈالی جاتی ہے تو یہ بات صاف ہوجاتی ہے کہ سعودی عرب علاقے میں اسرائیلی اور امریکی مفادات کے محافظ کے طور پر کام کررہا ہے ۔
آل سعود اپنی بقاء صہیونیوں کی خوشنودی ميں ہی تلاش کرتی رہتی ہے ۔ اس کا بہترین ثبوت سن دوہزار چھ میں لبنان پر اسرائیلی حملے اور دو ہزار نوکے آغاز میں غزہ پر صہیونی ریاست کی بربریت کے دوران سعودی حکام کا رویہ ہے ۔ علاوہ ازیں موجودہ صورتحال میں جب پورے عالم اسلام اور خاص طور پر مشرق وسطی میں اسلامی بیداری کی لہر پوری قوت کے ساتھ جاری ہے اور جویقینی طور پر اسرائیل اور امریکا کو لرزہ براندام کرنے کے ساتھ ساتھ غاصب اسرائیلی حکومت کی نابودی کا راستہ ہموار کررہی ہے یہ سعودی عرب کی ہی حکومت ہے جو علاقے کے عوام کے انقلابات کو ناکام بنانے کے لئے ہرممکن کوشش کررہی ہے تاکہ جیسے بھی ہو اسرائیل کو بچایا جاسکے ۔ اسی حقیقت کے پیش نظر اب یہ بات سب پر عیاں ہوتی جارہی ہے کہ پورے علاقے میں مشکلات کی اصل جڑ ، جہاں امریکا اور اسرائیل ہيں وہیں اب ان کے ساتھ تیسری قوت سعودی عرب بھی شامل ہوگئی ہے ۔
جہاں تک پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف کو پاکستان دوبارہ واپس بھیجنے کے موضوع کا سوال ہے تو ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ امریکا ، اسرائیل اور سعودی عرب اپنی ان کوششوں میں کہاں تک کامیاب ہوپائيں گے کیونکہ اس وقت پاکستان میں امریکا کے خلاف جذبات بہت زیادہ بھڑکے ہوئے ہیں اور مشرف کو امریکا کی طرف سے پاکستان کے عوام پر مسلط کرنے کے منصوبہ شاید ان کے لئے جلتی پر تیل کا کام کرے اسی لئے پاکستان میں بہت سے سیاسی حلقوں کا خیال ہے کہ مشرف کی طرف سے اپنی واپسی کا اعلان محض ایک اعلان ہے وہ فی الحال پاکستان آنے کی جرائت نہيں کریں گے ۔ ........
/169